Medical/Health Care / Politics

پولیو سے آزاد دنیا کے فوری مطالبے کے لیے معروف عالمی شخصیات متحد

نیو یارک، 27 ستمبر 2012ء/پی آرنیوزوائر–

نئے اور موجودہ عطیہ کنندگان کا پولیو کو ہمیشہ کے لیےختم کرنے کے نادر موقع پر زور

دنیا بھر کے رہنماؤں نے آج اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے رواں سال کی جانے والی پیشرفت کے بل بوتے پر آگے بڑھنے اور پولیو کے خاتمے کے لیے جنگ کو تیز تر کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ افغانستان، نائیجیریا اور پاکستان کے سربراہان مملکت عطیہ کنندہ حکومتی عہدیداران اور سرکاری و نجی شعبے کے نئے عطیہ کنندگان کے ساتھ مل کر اس مرض کو ہمیشہ کے لیے ختم کرنے کے لیے ضروریات کا تعین کر رہے ہیں: وسائل سے طویل المیعاد وابستگی؛ جدید و بہترین مشقوں کا اطلاق؛ اور متاثرہ ممالک کی حکومتوں میں تمام سطحوں پر مسلسل قیادت اور احتساب۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی-مون نے کہاکہ “صحت و انصاف کا معاملہ فیصلہ کن مرحلہ ہے۔ ہر بچے کو اس بیماری سے یکساں تحفظ کے ساتھ زندگی کا آغاز کرنے کا حق حاصل ہونا چاہیے۔ یہی وجہ ہے کہ بحیثیت سیکرٹری جنرل اپنے دوسرے دور کا آغاز کرتے ہوئے میں نے پولیو کے خاتمے کو اپنی سرفہرست ترجیح قرار دیا۔”

پولیو ویکسین کے ذریعے قابل انسداد مرض ہے جو دنیا سے 99 فیصد سے زائد ختم ہو چکا ہے۔ آج تاریخ کے مقابلے میں بہت کم ممالک کے چند ہی اضلاع میں اکا دکا پولیو کے کیسز رہ گئے ہیں۔

اقوام متحدہ کی اعلیٰ سطحی تقریب “اگلی نسل سے ہماری وابستگی: پولیو-سے-آزاد دنیا کا ورثہ” کے بارے میں مزید معلومات کے لیے ملاحظہ کیجیے: http://www.polioeradication.org

اقتباسات:

پولیو کے خاتمے کے عالمی منصوبے (GPEI) کے لیے سرفہرست عطیہ کنندگان میں سے ایک بل اینڈ میلنڈا گیٹس فاؤنڈیشن کے شریک-چیئر بل گیٹس نے کہا کہ “بات واضح ہے: اگر ہم سب اپنا حصہ ڈالیں، تو ہم اس مرض کا خاتمہ کر سکتے ہیں اور کریں گے۔ لیکن ہمیں جلد از جلد قدم اٹھانا ہوگا اور خود کو کامیابی کا بہترین موقع دینا ہوگا۔ جب ہم پولیو کو شکست دیں گے تو یہ ہمیں صحت و ترقی کے اگلے سنگ ہائے میل عبور کرنے کے لیے متحرک کرے گا۔”

عالمی ادارۂ صحت کی ڈائریکٹر-جنرل ڈاکٹر مارگریٹ چین نے کہا کہ “پولیو کے خاتمے میں ناکامی ہمیشہ کے لیے ایک ناقابل معافی عمل ہوگا۔ ناکامی کا تو سوال ہی نہیں ہے۔ ہم میں سے کوئی بھی ایک آخری رکاوٹ کے اس طویل و مشکل سفر کو تنہا نہیں کر سکتا۔ لیکن مل جل کر ہم ایسا کر سکتے ہیں۔”

یونی سیف کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر اینتھنی لیک نے کہا کہ “مل جل کر ہم پولیو کے خاتمے کے ذریعے تاریخ مرتب کر سکتے ہیں – جس کا زیادہ تر سہرا میدان عمل میں موجود ان ہیروز کے سر ہوگا جو ہر روز اپنی زندگیوں کو خطرے میں ڈال کر دنیا کے چند خطرناک ترین علاقوں میں بچوں کو ویکسین پہنچا رہے ہیں۔”

روٹری فاؤنڈیشن ٹرسٹیز کے چیئر ولفریڈ ولکن سن نے کہا کہ “اگر ہم ایک پولیو سے آزاد دنیا چاہتے ہیں تو حکومتوں کو پولیو کے خاتمے کے لیے آگے بڑھتے ہوئے اپنے وعدوں کو پورا کرنا ہوگا۔ ہمیں فوری طور پر عملی قدم اٹھاتے ہوئے اس موقع کا فائدہ اٹھانا ہوگا، یا پھر دنیا کے بچوں کے ساتھ اپنے وعدے کو توڑنے کا خطرہ مول لیں۔”

یو ایس سینٹرز فار ڈیزیزز کنٹرول اینڈ پریوینشن (CDC) کے ڈائریکٹر تھامس فرائیڈن نے کہاکہ “ہمیں پولیو کو ختم کرنے اور دنیا بھر کے بچوں کے لیے دیرپا اثرات چھوڑنے کا نادر موقع ملا ہے ۔ ہمیں مل کر اس اہم عالمی سنگ میل کو حاصل کرنے کے لیے لازماً کوشش کرنی چاہیے۔”

پولیو کے خاتمے کی کوشش کے نئے عطیہ کنندہ اسلامی ترقیاتی بینک نے پاکستان کے لیے تین سال میں 227 ملین ڈالرز کا مالیاتی پیکیج اور افغانستان میں پولیو کے خاتمے کی سرگرمیوں کے لیے 3 ملین کی گرانٹ دینے کا اعلان کیا ہے۔

ہدایات برائے مدیران:

اقوام متحدہ کی اعلیٰ سطحی تقریب لائیو-اسٹریم پر پیش جائے گی، 12:30 تا 1:30 ای ڈی ٹی، http://webtv.un.org پر۔

تقریب کی تصاویر اور ویڈیو یہاں دستیاب ہوں گی http://www.rotary.org/mediacenter۔

جی پی ای آئی کے بارے میں

1988ء میں شروع ہونے والا پولیو کے خاتمے کا عالمی منصوبہ (GPEI) عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او)، روٹری انٹرنیشنل، یو ایس سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریونشن (CDC) اور یونی سیف کی زیر قیادت ہے، اور اسے بل اینڈ میلنڈا گیٹس فاؤنڈیشن کی مدد حاصل ہے۔

اس ادارے کے آغاز سے اب تک پولیو کے واقعات میں 99 فیصد سے زائد تک کمی آ چکی ہے۔ 1988ء میں ہر سال 125 سے زائد متاثرہ ممالک میں 3 لاکھ 50 ہزار سے زیادہ بچے پولیو کی وجہ سے معذور ہو جاتے تھے۔ 2012ء میں 145 نئےپولیو کیس مشاہدے میں آئے، اور اب صرف تین ممالک میں یہ مرض رہ گیا ہے: نائیجیریا، پاکستان اور افغانستان۔

http://www.polioeradication.org

ذریعہ: پولیو کے خاتمے کا عالمی منصوبہ

Tags: ,

Leave a Reply